آرمی اور ایف سی پر متعدد حملوں میں ملوث اہم دہشت گرد کراچی سے گرفتاردہشت گرد نے مخبری کے شبے میں اپنے حقیقی خالو اور اپنے دوستوں کو بھی دھماکے میں مار دیا تھا، سی ٹی ڈی
ZANJANI NEWS

کراچی(زنجانی نیوز) رینجرز اور پولیس نے مشترکہ کارروائی میں کالعدم تنظیم کے دہشت گرد کو گرفتار کرکے اسلحہ اور ہینڈ گرنیڈ برآمد کرلیا، گرفتار دہشت گرد سیکیورٹی فورس پر حملوں میں ملوث ہے جو دہشت گردی کے لیے باجوڑ سے کراچی آیا تھا۔ترجمان سی ٹی ڈی پولیس کے مطابق انٹیلی جنس بنیاد پر اطلاع ملی تھی کراچی میں دہشت گرد تخریب کاری کے لیے جمع ہوئے ہیں، جس پر سی ٹی ڈی اور رینجرز نے کراچی میں ایک مقام پر چھاپہ مار کر کالعدم تنظیم کے دہشت گرد ذاکر اللہ عرف شفیع عرف زاہد علی کو گرفتار کرکے ایک ہینڈ گرنیڈ اور پسٹل برآمد کرلیا۔ترجمان کے مطابق گرفتار دہشت گرد نے دوران تفتیش انکشاف کیا اس کا تعلق کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان سے ہے اور اس نے کالعدم تنظیم داعش میں بھی شمولیت اختیار کی تھی۔ترجمان کے مطابق ذاکر اللہ نے دہشت گردی کی تربیت افغانستان میں حاصل کی، سال 2011ءمیں ایف سی اور فوج پر حملہ کیا جس میں متعدد ایف سی اور پاک فوج کے افسران و جواں شہید ہوئے، جوابی کارروائی میں دہشت گرد کے 2 ساتھی مارے گئے، ذاکر اللہ نے مخبری کے شبے میں اپنے حقیقی خالو اور ان کے دوستوں کو بم دھماکے میں مار دیا تھا اسے شبہ تھا کہ خالو حساس اداروں کے لیے اس کے خلاف مخبری کررہے ہیں۔دہشت گرد نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ 2011ئ میں 60 عدد لاکٹ لانچر افغانستان سے لاکر پاکستان میں کالعدم تنظیم کے دہشت گردوں کو دیے تھے، 2012ءمیں باجوڑ ایجنسی میں ایف سی اور فوج پر حملہ کیا جس میں فوجی افسران و جواں شہید ہوئے اور دہشت گردوں کے دو ساتھی مارے گئے تھے۔گرفتار دہشت گرد اور اس کے ساتھیوں ںے 2013ءمیں افغانستان سے واپس آکر باجوڑ ایجنسی میں ایف سی اور پاک فون کی چیک پوسٹوں پر حملہ کرکے 18 جوانوں کو یرغمال بنا کر ان کے سر تن سے جدا کردیئے تھے، اپنے ہمراہ ان کے سر اپنے ساتھ لے گئے تھے، 2014ء میں باجوڑ ایجنسی میں پاکستان سے دلی حمایت رکھنے والے سعید خان اور ملک عبدالرحمان کو بم دھماکے میں اڑا دیا تھا اس کے بعد ملزم اپنے ساتھیوں سمیت افغانستان فرار ہوگیا تھا۔ذاکر اللہ حال ہی میں افغانستان سے کراچی تخریب کاری کے لیے کراچی آیا تھا اس نے اپنے دیگر ساتھیوں کے بارے میں بھی انکشاف کیا ہے جن کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *