حکومت پی ڈی ایم کے سینیٹ الیکشن لڑنے کے اعلان سے گھبرا گئی، بلاول بھٹو واضح کردیں کہ عمران خان کو بھاگنے نہیں دیں گے، بلاول بھٹو
ZANJANI NEWS

کراچی(زنجانی نیوز) چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ حکومت پی ڈی ایم کے سینیٹ الیکشن لڑنے کے اعلان سے گھبرا گئی ہے، اور اب اداروں کو متنازعہ بنا کر عمران خان کے لیے دھاندلی کرائی جارہی ہے۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ حکومت پی ڈی ایم کے سینیٹ الیکشن لڑنے کے اعلان سے گھبرا گئی ہے، آج خبر چل رہی ہے کہ حکومت آرڈینینس نکال کر الیکشن کے لیے سیکرٹ بیلٹ کی خلاف ورزی کرنے لگی ہے، حکومت کی گھبراہٹ سب کے سامنے ہے، عمران خان پورے ملک کو بتا رہے ہیں انہیں اپنے نمبرز پر اعتماد اور بھروسہ نہیں، اس وقت عمران خان کا پسینہ نکل رہا ہے اور وہ آئین تبدیل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ حکومت جان بوجھ کر سینیٹ انتخاب سے پہلے اداروں کو متنازعہ بنا رہی ہے، اگر انہوں نے سنجیدہ آئین ترمیم کا فیصلہ کیا تھا تو اس کے لیے سنیجیدہ کوشش کرتے اور سیاسی جماعتوں کواعتماد میں لیتے، درست وقت پر فیصلہ کرلیا جاتا تو قانون سازی ہوجاتی، انتخابی اصلاحات کا ہم بھی حصہ بننا چاہتے ہیں، الیکٹورل ریفارمزمیں اوپن بیلٹ کوشامل کیا جا سکتا تھا، حکومت نے اس معاملے پر جمہوری طریقہ کار نہیں اپنایا، آئین میں ترمیم صرف پارلیمنٹ کرسکتی ہے، لیکن اسمبلی میں کسی کو اس معاملے پر بات کرنے نہیں دی گئی، سینئراراکین پر حملہ کیا گیا، سپریم کورٹ کو بھی متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی، آرڈینیس کابینہ سے پاس کرایا جا رہا ہے، جب کہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہے، اب حکومت سپریم کورٹ پر دباو¿ ڈالنے کی کوشش کررہی ہے۔چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ سینیٹ الیکشن اور اداروں کو متنازع بنا کر عمران خان کے لیے دھاندلی کرائی جارہی ہے، الیکشن 2018 میں بھی دھاندلی کی گئی، لیکن اب پی ٹی آئی کی ہر دھاندلی کرنے کی کوشش ناکام رہے گی، سب جانتے ہیں کہ عمران ایک ناجائز وزیر اعظم ہیں، وہ اس کرسی پر بیٹھنے کا لحاظ تو کریں کیوں کہ وہ عمران نہیں وزیر اعظم کے طور پر وہاں ہے، موجودہ حکومت میں این آر اوز دھڑا دھڑ بانٹے جا رہے ہیں، جب کہ وزیراعظم پی ڈی ایم سے این آر او مانگ رہے ہیں، ہم واضح کردیں کہ عمران خان کو بھاگنے نہیں دیں گے۔بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ پی ڈی ایم پرحکومت کا کوئی پریشر نہیں ہم سب مل کر فیصلے لیتے ہیں، پی ڈی ایم اگر بات چیت نہ کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو ہم نہیں کریں گے، اور اگر پی ڈی ایم بات چیت کا فیصلہ کرے گی تو ہم بات چیت کریں گے، ہم نہیں سمجھتے کہ ہم پی ڈی ایم کو ہارڈ سے سافٹ لائن پر لائے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *