سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے زرعی ترقی کی حکمت عملی حکومتی نمائندوں کے حوالے کر دی گئی حکمت عملی کا اہم مقصد زراعت کی 7.5 فیصد شرح نمو حاصل کرنا ہے، اسد قیصر
ZANJANI NEWS

اسلام آباد (نیوزڈیسک)سپیکر قومی اسد قیصر نے اگلے 7 سالوں کےلئے جامع اور مربوط ساختی اصلاحات پر مبنی زرعی نمو کی حکمت عملی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ اینڈ ریسرچ اور زراعت سے متعلق کابینہ کی ذیلی کمیٹی کے حوالے کردی۔ اس حکمت عملی کے اہم اجزاءمیں بلوچستان، جنوبی پنجاب ، کے پی ، تھرپارکر ، کاٹن بحالی پروگرام ، تیل بیج کی ترقی، ڈیجیٹل زرعی فنانس اور دیگرنکات شامل ہیں۔ معیاری بیج کی فراہمی ، زرعی انشورینس (کاشتکار رسک ٹرانسفر میکانزم) سیٹلائٹ کے ذریعے فصل کی رپورٹنگ، زرعی اصلاحات کیلئے زرعی ترقیاتی اتھارٹی کا قیام ، احساس، کامیاب جوان پروگراموں اور سی پیک کے ساتھ روابط اور زرعی شعبہ میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لئے مراعات کاشتکار اور کسان تنظیموںسے روابط بڑھانا شامل ہیں۔سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ اس حکمت عملی کا اہم مقصد زراعت کی 7.5 فیصد شرح نمو حاصل کرنا ہے،مالی سال 2027-28ءتک کسانوں کی ملکیت میں مربوط مارکیٹ پر مبنی زرعی اجناس میں ویلیو میں اضافہ اور کسانوں کو جدید پیداواری ٹیکنالوجی کی فراہمی، کاشت شدہ اراضی کے رقبے میں توسیع اور ویلیو ایڈڈ سرگرمیوں میں سرمایہ کاری جاری رکھنے کی ترغیب دیتی ہے۔حکمت عملی میں مزید کہا گیا کہ مجوزہ حکمت عملی کا اہم مقصد زرعی برآمدات کو فروغ دینا، دیہی ترقی میں معاشی نمو کو تیز کرنا، دیہی غربت کو کم کرنا، زرعی شعبے میں مالی اور صنفی شمولیت کو بڑھانا بھی شامل ہے۔ اس حکمت عملی میں مزید کہا گیا کہ مجوزہ ماڈل میں ترقی کی حکمت عملی کا تصور کیا گیا ہے جس میں 7.4 ملین چھوٹے کسانوں کے کاروباری ماڈل کی تبدیلی پر توجہ دی گئی ہے جو کل کاشت کی جانے والی اراضی کا 48 فیصد کاشت کرتے ہیں۔اسپیکر نے کہا کہ اس حکمت عملی کے ذریعہ زراعت کے شعبے کو جدید بنانے میں تیزی لانا ہے تاکہ یہ شعبہ معیشت کی پائیدار ترقی کے لئے وسائل پیدا کرسکے اور خود انحصاری کے ساتھ معاشی استحکام حاصل کر سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *