ملک وزیر اعظم اور وزرا ءکی چوری سے تباہ ہوتے ہیں، عمران خان
ZANJANI NEWS

اسلام آباد (نیوزڈیسک)وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک وزیر اعظم ،وزراءکی چوری سے تباہ ہوتے ہیں ،کروڑوں روپے کی کرپشن کے بعد سیاسی جماعتوں کے رہنماءکہتے ہیں ہمیں این آر او دے دو،ہرسال ہزار ارب ڈالر غریب ملک سے چوری ہو کر امیر ملک جاتا ہے،اسلام کا دشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ، مغرب کے اسلام کو دہشت گردی کےساتھ جوڑنے پر مسلم ممالک کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، مغرب میں اسرائیل اور یہودیوں کےخلاف ایک لفظ ادا نہیں کیا جاتا،کوئی معاشرہ قانون کی بالادستی کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا، چند صحافی سپریم کورٹ کے سزا یافتہ مجرم ،جھوٹ بول کر بیرون ملک جانے والے کے بارے میں کہتے ہیں انہیں تقریر کرنے کی اجازت دی جائے،کرپٹ ترین لوگ شام کو ٹی وی پر بیٹھ کر بلند بانگ دعوی کرتے ہیں۔اسلام آباد میں علما و مشائخ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ قیام پاکستان کےلئے تقریباً تمام دینی حلقوں نے قائد اعظمؒ کا ساتھ دیا اور آج علماءکا بہت بڑا کردار ادا کرنا جس مقصد کےلئے پاکستان تشکیل پایا تھا۔انہوں نے کہا کہ قائد اعظمؒ پاکستان کو بطور اسلامی فلاحی ریاست دنیا کا رول ماڈل بنانا چاہتے تھے۔وزیراعظم نے کہا کہ مغرب نے اسلام کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑ دیا ہے اور مسلم ممالک کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلام کا دشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور مسلمان لیڈر شپ نے اس امر کی کبھی وضاحت نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ نائن الیون سے پہلے سب سے زیادہ خود کش حملے بھارت میں تامل نے کئے تھے اور وہ ہندو تھے لیکن کسی نے انہیں دہشت گرد نہیں کہا۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیڈر شپ کو عالمی فورم پر مغربی ممالک کے رہنماو¿ں کو سمجھنا چاہیے تھا کہ آزادی اظہار اور پیغمبر کی ناموس میں کیا فرق ہے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ جب اسلام کو دہشت گردی کے نتھی کردیا گیا تو سوچ کے اعتبار سے مسلمانوں کی تقریق برقرار نہیں رہی اور مغرب میں تمام مسلمانوں ایک ہی نظر سے دیکھے جانے لگے۔انہوں نے کہا کہ مغرب میں اسرائیل اور یہودیوں کے خلاف کوئی ایک لفظ ادا نہیں کیا جاتا۔وزیراعظم نے کہا کہ جرمنی میں یہودی کے خلاف ہولوکاسٹ کا ظلم ہوا اور اب آزادی اظہار کے نام پر کوئی اس پر بات نہیں کرسکتا۔انہوں نے کہا کہ چار یورپی ممالک میں ہولوکاسٹ پر بات کرنے پر جیل کی سزا ہوجاتی ہے وہاں آزادی اظہار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کا سکالر نہیں لیکن ایک طالبعلم ہوں، میرا ایمان ہے کہ جو مدینہ کی ریاست تھی اور جو قوم اس ریاست کے اصولوں پر چلے گا اس قوم کو عروج ملے گا اور اگر وہ قوم مسلمان نہ بھی تو اسے عروج ملے گا۔وزیر اعظم نے کہا کہ کوئی معاشرہ قانون کی بالادستی کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا، آج ہمارے معاشرے کی مثال لے لیں جہاں کروڑوں روپے کی کرپشن کے بعد سیاسی جماعتوں کے رہنماءکہتے ہیں کہ ہمیں این آراو دے دو۔انہوں نے کہا کہ گائے، موٹرسائیکل اور دیگر چھوٹی چوری کرنے والے جیلوں میں ہیں جبکہ ملک کے وسائل چوری کرکے بیرون ملک لے گئے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں این آر او دے دو۔انہوں نے کہا کہ چھوٹے چوروں کی چوری سے ملک تباہ نہیں ہوتا، ملک تباہ ہوتا ہے جب اس کا وزیراعظم اور وزیر چوری شروع کردیں۔انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر کے تمام ممالک دیکھ لیں جہاں ان کے وزیر اعظم اور وزراءپیسہ چوری کرکے بیرون ملک لے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہر سال ایک ہزار ارب ڈالر غریب ملک سے چوری ہو کر امیر ملک جاتا ہے۔قائد (ن) لیگ محمد نواز شریف کا نام لئے بغیر وزیراعظم نے کہا کہ چند صحافی سپریم کورٹ کے سزا یافتہ مجرم اور جھوٹ بول کر بیرون ملک جانے والے کے بارے میں کہتے ہیں کہ انہیں تقریر کرنے کی اجازت دی جائے۔انہوں نے کہا کہ اس سے نوجوانوں کو تاثر جارہا ہے کہ چوری کرنا برائی نہیں ہے، اپوزیشن کے پاس اربوں روپے ملکیت کی جائیداد ہے جس کا جواب وہ نہیں دے سکتے اور یہاں انہیں تقریر کرنے کی اجازت دی جائے۔انہوں نے کہا کہ معاشرہ اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا جب پولیس افسر یا پٹواری رشوت لیتے ہوئے خوفزدہ نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ کرپٹ ترین لوگ شام کو ٹی وی پر بیٹھ کر بلند بانگ دعوی کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *