گل بائی روڈ کی تعمیر سے علاقے میں ٹریفک کے بہاو کے مسائل حل ہوں گے،وزیراعلیٰ سندھ شہر کی ترقی سیاحت پر مبنی ہونی چاہئے تاکہ سیاحوں کو سمندر کنارے جانے والی سڑکیں تیار کرنے سے راغب کیا جاسکے،اجلاس سے خطاب
ZANJANI NEWS

کراچی (زنجانی نیوز)وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی پیکیج کے تحت شروع کیے جانے والے جاری ترقیاتی اسکیموں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ گل بائی روڈ کی تعمیر سے نہ صرف علاقے میں ٹریفک کے بہاو¿ کے مسائل حل ہوں گے بلکہ اس سے سیاحت اور تفریحی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔ انھوں نے کہا کہ شہر کی ترقی سیاحت پر مبنی ہونی چاہئے تاکہ سیاحوں کو سمندر کنارے جانے والی سڑکیں تیار کرنے سے راغب کیا جاسکے جیسے سینڈسپٹ ، منہوڑہ ، کیماڑی اور تاریخی مقامات جیسے وزیر مینشن ، جناح ہاس جیسی پرانی عمارتیں شہر کی خوبصورتی اور شان میں اضافہ کرتی ہیں۔ یہ بات انہوں نے کراچی پیکیج کے تحت شروع کی گئی مختلف ترقیاتی اسکیموں کا جائزہ لینے کیلئے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں وزیر بلدیات ناصر شاہ ، مشیر قانون مرتضی وہاب ، وزیراعلی سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو ، کمشنر کراچی نوید شیخ ، سیکرٹری بلدیات نجم شاہ ، ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد ، ایم ڈی واٹر بورڈ اسد اللہ خان ، ایڈیشنل سیکرٹری خزانہ اسد ضامن ، پی ڈی کراچی پیکیج خالد مسرور نے شرکت کی۔ گل بائی روڈ: گل بائی سے وائی جنکشن تک 5.25 کلومیٹر دو کیریج وے کی تعمیر نو 1.01 بلین روپے میں ہو رہی ہے اور یہ چھ ماہ میں مکمل ہوجائے گی۔ وزیراعلی سندھ نے محکمہ بلدیات کو سڑک کے دونوں اطراف برساتی پانی کے نالوں کی تعمیر کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ سڑک کی تعمیر سے پہلے علاقے کے نکاسی آب کے مسائل حل ہونے چاہئیں۔ وزیراعلی سندھ کو بتایا گیا کہ سڑک پر کام شروع کردیا گیا ہے۔ سڑک کے ساتھ کچھ مقامات پر تجاوزات ہیں۔ وزیراعلی سندھ نے تجاوزات کو ختم کرنے کیلئے ہدایات جاری کیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ٹریفک کیلئے متبادل راستے کی تعمیر ہورہی ہے۔ ٹریفک پولیس کی مشاورت سے متبادل راستے پر کام کیا گیا ہے۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ ہاکس بے اور ساحلی پٹی کو تفریحی مقاصد کیلئے کھولنے کا یہ منصوبہ سب سے اہم تھا۔ موڑ/چوراہا: وزیراعلی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سب میرین چورنگی کی تعمیر کے بعد خلیق زمان روڈ سے پنجاب کالونی / سن سیٹ بلیووارڈ کی جانب ٹریفک کا فلو بلاک ہوگیا ہے۔ میں نے پہلے ہی عمارت کے مکینوں کو ادائیگی کیلئے 100 ملین روپے جاری کردیئے تھے جوکہ بلڈوز ہوجانی چاہئے تھی جو گاڑیوں کے ٹریفک کیلئے رکاوٹ تھی مگرایک سال گزر جانے کے باوجود ابھی تک عمارت کو منہدم نہیں کیا گیا ہے۔ اس پر وزیر بلدیات ناصر شاہ نے وزیر اعلی سندھ کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ کچھ قانونی مسائل تھے جنھیں اب حل کردیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 100 ملین روپے میں سے 30 ملین روپے ڈپٹی کمشنر ساتھ کو معاوضے کی ادائیگی کیلئے جاری کردیئے گئے ہیں اور باقی رقم عمارت کے قبضے کو واگزار کرانے کیلئے فراہم کی جارہی ہے۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ وہ خلیق زمان روڈ سے پنجاب کالونی کی طرف رواں ٹریفک کو دیکھنے کے خواہاں ہیں کیوں کہ اس سے گاڑیوں کی آمدورفت میں پریشانی کا سامنا ہے۔ انڈر پاس اور فلائی اوور: مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے 12 سے زائد انڈر پاسز اور فلائی اوور تعمیر کیے ہیں چونکہ انہیں متعلقہ ایجنسیز کے حوالے نہیں کیا گیا ہے لہذا انکی دیکھ بھال نہیں کی جارہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوگ انہیں پیغامات بھیج رہے ہیں کہ ناتھا خان ، مہران اور کچھ دیگر انڈر پاسز میں پانی جمع رہتا ہے۔ انہوں نے وزیر بلدیات کو انڈر پاسز کو کے ایم سی اور متعلقہ ڈی ایم سیز کے حوالے کرنے اور انکی مناسب دیکھ بھال کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ واضح رہے کہ صوبائی حکومت نے مہران ہوٹل کے پاس بیگم نصرت بھٹو انڈرپاس ، سب میرین چورنگی ، ناتھا خان پرمنور سہروردی ، شاہراہ قائدین میں دو اور کچھ دیگر انڈر پاسزتعمیر کروائے ہیں لیکن ان کا قبضہ متعلقہ ایجنسی کے حوالے نہیں کیا گیا ہے۔ یو ٹرن: وزیراعلی سندھ نے کہا کہ ناتھا خان پل پر 214.466 ملین روپے کی لاگت سے یو ٹرن کی تعمیر 2020 کی اسکیم تھی لیکن پھر بھی یہ مکمل نہیں ہو سکی۔ انہوں نے اسکیم کے پی ڈی کو ہدایت کی کہ اسے ڈیڑھ ماہ کے اندر مکمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ناتھا خان میں ٹریفک جام کے سنگین مسائل ہیں جن کا حل یو ٹرن کی تعمیر سے ہوسکتا ہے۔ ایس ڈبلیو ڈی: اسٹار گیٹ سے چاکیوڑہ نالہ تک برساتی پانی کا نالہ شاہراہ فیصل اسکیم 198.8 ملین روپے میں شروع کی گئی۔ اس اسکیم پر کام 30 فیصد ہوچکا ہے۔ وزیر اعلی سندھ نے پی ڈی کراچی پیکیج خالد مسرور کو ہدایت کی کہ اسے رواں سال کے آخر تک مکمل کیا جائے۔ یہ ایک اہم اسکیم ہے اور اسے بروقت مکمل کیا جانا چاہئے۔ بیوٹی فکیشن: وزیراعلی سندھ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لیاقت آباد نمبر 10 سے شیرشاہ تک ابن سینا روڈ کے ساتھ گیٹریز ، سائن بورڈز ، اشاریہ بورڈز کے ذریعے خوبصورتی اسکیموں پر کام 248 ملین روپے میں منظور کیا گیا تھا لیکن ابھی تک کام شروع نہیں کیا گیا ۔ اسی طرح کی اسکیم کو ایم ٹی خان روڈ سے پنجاب چورنگی اور پی آئی ڈی سی سے جناح پل تک مائی کولاچی روڈ کو خوبصورت بنانے کیلئے 171.5 ملین روپے میں بھی منظور کیا گیا تھا لیکن ابھی تک اس پر کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی۔ اسی طرح کی ایک اور اسکیم کی 176.2 ملین روپے کی منظوری دی گئی تھی جو ناگن چورنگی سے شاہراہ فیصل تک راشد منہاس روڈ کی خوبصورتی / بحالی کے کاموں کیلئے تھی وہ بھی تاحال شروع نہیں ہوئی ہے۔ وزیراعلی سندھ نے وزیر بلدیات کو ہدایت کی کہ وہ یہ کام اولین ترجیحی بنیادوں پر شروع کریں۔ انہوں نے آئی آئی چندریگر روڈ کے نکاسی آب کے نظام کی زیادہ اوورہالنگ اور اس کے بعد روڈ مارکنگ ، سائن بورڈ کی روشنی کے علاوہ ضروری تنصیبات اور اس طرح کے دیگر کاموں کے ساتھ سڑک کی خوبصورتی سے متعلق ہدایات بھی جاری کیں۔ مراد علی شاہ نے شہر میں 10 پیدل چلنے والے پلوں کی تعمیر کیلئے محکمہ بلدیات کو بھی ہدایت کی جس کیلئے مقامات کی نشاندہی اور منظوری دی جاچکی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *