جمہوریت کی بالادستی کی تحریک میں کوئی مرد پیچھے نہیں رہ سکتا، گرینڈ ڈائیلاگ اسی وقت ممکن ہے جبکہ عمران خان اسمبلیاں توڑ دیں، محمود خان اچکزئی
ZANJANI NEWS

حیدرآباد(زنجانی نیوز)پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج جتنی بڑی تعداد میں مائیں بہنیں بیٹیاں اس جلسے میں شریک ہیں ایسے میں پی ڈی ایم کی آئین قانون اور جمہوریت کی بالادستی کی تحریک میں کوئی مرد پیچھے نہیں رہ سکتا، گرینڈ ڈائیلاگ اسی وقت ممکن ہے جبکہ عمران خان اسمبلیاں توڑ دیں اور پھر جرنیل، جرنلسٹ، علمائ، سیاسی رہنماءمل بیٹھیں اور جمہوری پاکستان کے ایجنڈے پر غور و فکر ہو، فوج ہمیں بہت عزیز ہے اگر وہ سی آئی اے اور موساد کے خلاف کھڑی ہو جائے ہم اس کے پشت پناہ ہوں گے مگر وہ سیاست میں مداخلت نہ کرے، ہمیں پاکستان بہت عزیز ہے لیکن اس میں شامل تمام قومیں اور ان کا وطن بھی عزیز ہے، پی ڈی ایم کی قیادت یہ عہد کرے کہ انگریز سے لے کر عمران حکومت تک اقتدار میں رہنے والے فصلی بٹیروں کو وہ اپنی صفوں میں جگہ نہیں دیں گے اور اب صرف عوام کی طاقت کا سکہ چلے گا۔وہ پی ڈی ایم کے زیراہتمام ہٹڑی بائی اس پر منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے، محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آئی ایس پی آر کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ سیاست سے ان کا کوئی تعلق نہیں مولانا فضل الرحمن اور بلاول بھٹو زرداری سے میری گزارش ہے کہ وہ جی ایچ کیو جا کر آئی ایس پی آر کے نمائندوں سے ملیں اگر وہ قرآن پر حلف دے دیں کہ سیاست میں مداخلت نہیں کریں گے تو پی ڈی ایم اپنی تحریک معطل کر دے گی، انہوں نے کہا کہ ہم نے پی ڈی ایم شوق سے نہیں بنایا نہ کسی کو گالیاں دینا مقصد ہے ہمارا مقصد صرف پاکستان کی تشکیل نو ہے کہ جہاں کسی فرقے کسی قوم کسی علاقے کے لوگوں کے ساتھ ظلم و زیادتی نہ ہو، انہوں نے کہا کہ پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگتا ہے لیکن جب تک پختون سندھی بلوچ سرائیکی پنجابی اپنے مادر وطن میں زندہ باد نہ ہوں سب کو اپنی زمین پر حقوق نہ ملیں پاکستان زندہ باد نہیں ہو گا، انہوں نے کہا کہ پاکستان زندہ باد کا ایک ہی فارمولہ ہے کہ بلوچستان اور سندھ کے تمام وسائل ان کی دھرتی میں ہیں اور ساحل پر ہیں ان سب کی ملکیت کو آئینی طور پر ان کی آئندہ نسلوں کا مکمل حق سمجھا جائے، اس کے بغیر اب حکومت نہیں چل سکتی، انہوں نے کہا کہ یہاں بلاول وزیراعظم کا نعرہ لگا ہے بلاول وزیراعظم ضرور بنیں اچھی بات ہے لیکن ذوالفقار علی بھٹو بینظیر بھٹو نوازشریف کو جس طرح حکومتوں سے نکالا گیا انہیں باہر پھینک دیا گیا اگر وزراءاعظم کا یہ انجام جاری رہنا ہے تو بلاول کا وزیراعظم بننا بے معنی ہے، اگر وزیراعظم عوام کے ووٹ سے شفاف طور پر منتخب ہو، پارلیمنٹ کی بالادستی قائم ہو، اسی کی داخلی اور خارجی پالیسیاں چلیں تو بلاول یا کسی اور کا وزیراعظم بننا بہترین ثابت ہو گا، انہوں نے کہا کہ ہم پر پاکستان کا دشمن ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے جو غلط ہے آپ جس طرح اور ان کے ذریعے پاکستان کو چلا رہے ہیں اب مزید نہیں چلے گا، یہ وہ لوگ ہیں جو انگریز سے لے کر اب تک ہمیشہ اقتدار میں رہتے ہیں اور وطن اور قوم فروشی کرتے ہیں، یہ بدقسمتی ہے کہ خفیہ ادارے انہی کو وفاداری کا سرٹیفکیٹ دیتے ہیں، جبکہ یہ وہ لوگ ہیں بانی پاکستان محمد علی جناح نے جن کے بارے میں کہا تھا کہ میری جیب میں کھوٹے سکے ہیں، انہوں نے کہا کہ ایسے وطن فروش تمام صوبوں اور تمام قوموں میں پائے جاتے ہیںاب ان کے ذریعے وفاق اور صوبے نہیں چلیں گے صرف عوام کی طاقت سے پاکستان چلے گا، پی ڈی ایم کی قیادت کو وعدہ کرنا چاہیے کہ وہ ان فصلی بٹیروں کو اپنی جماعتوں میں کبھی جگہ نہیں دیں گے، انہوں نے کہا کہ ہمیں پاکستان بھی عزیز ہے کیونکہ ہماری دھرتی بھی پاکستان کا حصہ ہے ہمیں فوج بھی عزیز ہے لیکن اس سے زیادہ پاکستان عزیز ہے ، اگر آئی ایس آئی، سی آئی اے اور موساد کے مقابلے میں ڈٹ جائے تو ہم ان کی پشت پر کھڑے ہیں لیکن وہ سیاست میں مداخلت نہ کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *