مشیران و معاون خصوصی کی تعیناتی پر سندھ حکومت سے ایک بار پھر جواب طلب ہائی کورٹ نے تمام مشیران و معاون خصوصی کو کالعدم قرار دیا۔ تمام مشیران و معاون خصوصی سے عہدے واپس لیے جائیں،درخواست گزار
zanjani news

کراچی(زنجانی نیوز) عدالت نے مشیران و معاون خصوصی کی تعیناتی پر سندھ حکومت سے ایک بار پھر جواب طلب کرلیا۔سندھ ہائی کورٹ میں مشیران و معاون خصوصی کو عوامی نمائندوں کے اختیارات دینے پر دائر کی گئی درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے شہری محمود اختر نقوی کی درخواست پر سماعت کی۔عدالت نے سندھ حکومت سے جامع جواب طلب کر لیا، جواب جمع نہ کرانے پر عدالت برہم ہوگئی۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ سندھ حکومت جواب جمع کیوں نہیں کر رہی؟عدالت نے کہا کہ اگر ایڈووکیٹ جنرل آفس جواب نہیں دے گا تو سب کو نوٹس جاری کر دیتے ہیں۔ مشیران و معاون خصوصی کو براہ راست نوٹس جاری کر دیتے ہیں۔اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ اس معاملے پر سپریم کورٹ کا فیصلہ دے چکی ہے۔ درخواست قابل سماعت نہیں۔درخواست گزار محمود اختر نقوی نے کہا کہ اگر فیصلہ ہوچکا تو مجھ پر جرمانہ لگا دیا جائے۔ سندھ حکومت غلط بیانی سے کام لے رہی ہے۔ سندھ حکومت نے سپریم کورٹ فیصلے میں جعل سازی کی۔درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ نے تمام مشیران و معاون خصوصی کو کالعدم قرار دیا۔ تمام مشیران و معاون خصوصی سے عہدے واپس لیے جائیں۔ مشیران و معاون خصوصی عوامی نمائندوں کے اختیارات نہیں لے سکتے۔ بیرسٹر مرتضی وہاب سے متعلق فیصلے میں جعل سازی کی گئی۔عدالت نے کہا کہ اتنے مشیران و معاون خصوصی ہیں، کوئی جامع جواب تو جمع کرائیں۔ صرف عدالتی فیصلوں کے ریفرنس دینے سے کام نہیں چلتا۔ آپ کے پاس 26 مشیران و معاون خصوصی ہیں، جس پر اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ وقت دیا جائے، جواب جمع کرا دیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *