سندھ کابینہ؛ گندم کی امدادی قیمت اور 37 ہزار اساتذہ بھرتی کرنے کی منظوری پی ایس ٹی اپنی ملازمت کے دوران پرائمری اسکولوں میں ہی رہیں گے،کمیٹی
ZANJANI NEWS

کراچی(زنجانی نیوز) سندھ کابینہ نے 37 ہزار اساتذہ بھرتی کرنے اور گندم کی خریداری کا ہدف 1.4 ایم ایم ٹن اور قیمت دو ہزار روپے فی 40 کلو گرام مقرر کرنے کی منظوری دے دی۔کابینہ کا اجلاس وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلیٰ ہاو¿س میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی وزراء، مشیر، چیف سیکریٹری سید ممتاز شاہ اور تمام متعلقہ سیکریٹریز نے شرکت کی۔صوبائی کابینہ نے محکمہ تعلیم میں ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ عملے کی ریکروٹمنٹ پالیسی 2021ءکا جائزہ لینے کے لیے ایک سب کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے اجلاس میں اپنی سفارشات پیش کیں جنہیں کابینہ نے منظور کرلیا۔کمیٹی نے بتایا کہ پی ایس ٹی کے لیے کم سے کم مجوزہ تعلیمی قابلیت سیکنڈ ڈویڑن میں گریجویشن ہوگی، پی ایس ٹی کی پوسٹ (گریڈ 9) کو اپ گریڈ کرکے گریڈ 14 کردیا گیا ہے لہٰذا ابتدائی بھرتی کے لیے تعلیمی قابلیت کی اپ گریڈیشن کے پیش نظر اسے انٹر میڈیٹ سے گریجویشن کردیا گیا ہے۔کمیٹی نے کہا کہ پی ایس ٹی اپنی ملازمت کے دوران پرائمری اسکولوں میں ہی رہیں گے لہٰذا پی ایس ٹی کو جے ایس ٹی /ایچ ایس ٹی/ ایس ایس ٹی کی پوسٹ پر ترقی دینے کے بجائے ان کی ترقی کے کیریئر کے لیے سروس اسٹریکچر تشکیل دیا جاسکتا ہے۔ سینئر پرائمری اسکول ٹیچر کی پوسٹ (گریڈ 16) میں ہیں اور ہیڈ /چیف پرائمری اسکول ٹیچر کی پوسٹ گریڈ 17 کی ہے اور انہیں پی ایس ٹی کے پروموشن کے لیے تشکیل دیا جاسکتاہے۔پروفیشنل کوالیفکیشن آئندہ راو¿نڈز میں تعیناتی کے لیے لازمی ہوں گی۔ دیگر ٹیچنگ کیڈرز مثلاً میوزک ٹیچر، ایس ایل ٹی، اورینٹل ٹیچر وغیرہ کے لیے بھرتی کے قواعد پر بھی مارکیٹ میں دستیاب اسپیشلائزڈ کوالیفیکیشن اولڈرز کو مد نظر رکھتے ہوئے نظر ثانی کی جاسکتی ہے۔کابینہ نے سفارشات پر غور کے بعد اصولی طورپر ان کی منظوری دی اور محکمہ تعلیم کو ہدایت کی کہ وہ ایک تفصیلی پریذنٹیشن تیار کریں کہ کس طرح ان سفارشات پر عمل درآمد کیا جائے اور اس کے کیا مالی اثرات ہوں گے۔کابینہ کو بتایا گیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن میں اساتذہ کے مختلف کیڈرز کی تقریباً 37000 اسامیاں خالی ہیں۔ کابینہ نے محکمہ تعلیم کو اجازت دی کہ وہ (آئی بی اے سکھرکے ذریعے) آئندہ 3 سال کے دوران 3 مراحل میں بھرتی شروع کرے۔گندم کی امدادی قیمت 2000 روپے فی 40 کلوگرام مقرر محکمہ خوراک نے کابینہ کو بتایا کہ اس وقت محکمہ کے پاس 8 لاکھ ٹن گندم دستیاب ہے۔ محکمہ نے20-2019ءکی فصل سے 1.236 ایم ایم ٹن گندم خریدی تھی اور 117000 ٹن درآمدی گندم وفاقی حکومت سے خریدی تھی۔محکمہ نے کابینہ کو یقین دلایا کہ دستیاب گندم کا اسٹاک سال 21-2020ئ کی نئی فصل کے آنے تک کافی ہے۔ لہٰذا انہوں نے کابینہ سے درخواست کی کہ وہ خریداری کے ہدف کے بارے میں فیصلہ کرے۔کابینہ نے تفصیلی غور و خوض کے بعد فیصلہ کیا کہ گندم کی امدادی قیمت 2000 روپے فی 40 کلوگرام مقرر کی جائے گی اور جیسا کہ پہلے فیصلہ کیا گیا کہ 1.4 ایم ایم ٹن گندم آئندہ ماہ سے شروع ہونے والے سیزن میں خریدی جائے گی۔کابینہ نے محکمہ خوراک کو مقررہ 80 فیصد پی پی بیگس اور 20 فیصد جوٹ بیگس باردانہ کی خریداری کرنے کی اجازت بھی دی۔گندم ذخیرہ کرنے کے وفاقی حکومت کے الزامات مسترد سندھ کابینہ نے وفاقی حکومت کے ان الزامات کو رد کردیا کہ سندھ حکومت نے گندم ذخیرہ کی جس کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ صوبائی کابینہ کے اراکین نے اسے بے بنیاد ، غیر مناسب اور حقائق کے برعکس بیان قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر فخر امام کا بیان جو کہ انہوں نے قومی اسمبلی کے فلور پر دیا جس میں انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ 6.6 ایم ایم ٹن گندم پنجاب سے غائب ہوئی۔وفاقی کابینہ نے پنجاب سے گندم کی اسمگلنگ کو تسلیم کرنے کے بجائے سندھ حکومت پر بے بنیاد اور من گھڑت الزام عائد کردیئے جوکہ انہیں زیب نہیں دیتے ہیں۔معافی کے مستحق قیدیوں کی فہرست تیار کرنے کا حکم سندھ کابینہ نے سینٹرل جیل کراچی میں عمر قید کے قیدی جنید رحمان انصاری کی معافی کی درخواست پر غور کیا۔ محکمہ داخلہ نے کابینہ کو بتایا کہ جنید رحمان کو عمر قید کی سزا ہے جو کہ تقریباً 25 سال بنتی ہے اور وہ 16 سال، 4 ماہ اور 16 دن کی سزا مکمل کرچکا ہے، ا±س نے 5 سال 11 ماہ اور 25 دنوں کی معافی کی درخواست کی ہے، اس کی باقی رہ جانے والی سزا کا دورانیہ 2 سال 7 ماہ اور 9 دن بنتا ہے۔محکمہ داخل سندھ نے بتایا کہ تعلیمی معافی 2 سال 7 ماہ اور 9 دنوں کے حساب سے کی گئی ہے اگر کابینہ معافی کی منظوری دے۔ کابینہ نے محکمہ داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ ایسے قیدیوں جنہیں اس طرح کی معافی دی جاسکتی ہے کی تفصیلات تیار کریں۔ کابینہ نے ایسے قیدیوں کی بھی تفصیلات طلب کیں جو کہ اپنی سزا مکمل کرچکے ہیں مگر ابھی تک ضمانتی بانڈ کی عدم ادائیگی کے باعث جیلوں میں رہ رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ یہ تفصیلا ت آئندہ کابینہ کے اجلاس میں پیش کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *