مسئلہ کشمیر کوہم مذاکرات کے ذریعے پرامن طریقے سے حل کر سکتے ہیں،شاہ محمود قریشی
ZANJANI NEWS

اسلام آباد (بیرونیوزڈیسک)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کوہم مذاکرات کے ذریعے پرامن طریقے سے حل کر سکتے ہیں،یہ معاملہ ایسے ہی نہیں چل سکتا،اس صورتحال سے کوئی بڑا سانحہ جنم لے سکتا ہے،نئی امریکی انتظامیہ سے امید ہے کہ وہ زمینی حقائق کو نظر انداز کرنا بند کرے گی ۔جمعرات کو وزارتِ خارجہ میں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے کشمیر ثقافتی ورثہ اور تصویری نمائش کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔تقریب کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو اجاگر کرتے ہوئے، نہتے کشمیریوں کے عزم و ہمت کو خراج تحسین پیش کرنا تھا۔مقررین نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کیے گئے یکطرفہ غیر قانونی اقدامات کے بعد، گذشتہ اٹھارہ ماہ سے جاری بدترین محاصرے، کشمیری نوجوانوں کی جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل سمیت ڈھائے جانے والے مظالم پر تفصیلی روشنی ڈالی۔تقریب میں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے کشمیری زبان میں ترانے اور نغمے سنوائیے گئے۔سیکرٹری خارجہ سہیل محمود اور وزارتِ خارجہ کے سینئر افسران اور میڈیا نمائندگان کی ایک کثیر تعداد تقریب میں شریک ہوئی۔وزیرخارجہ نے کشمیریوں کی جدوجہد حق خودارادیت کے حوالے سے تصویری نمائش کا افتتاح کیا۔تصویری نمائش اور تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت اصرار کرتا ہے کہ کشمیر اسکا اندرونی معاملہ ہے اگر ایسا ہے تو ہم کیوں باہمی مذاکرات کی بات کرتے ہیں بھارت مسئلہ کشمیر کو دہشتگردی سے جوڑنے کا پروپیگنڈا کرتا ہے ہمیں سوچنا ہے کہ کیا ہم جنوبی ایشیا میں امن کے خواہاں ہیں ۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اب بدل رہا ہے ہم ایک نئی سیاسی جماعت ایک نئی سوچ کے ساتھ ہیں ۔ ماضی میں ہم جیوپولیٹیکل محل وقوع جبکہ آج ہم جیو پولیٹیکل اکانومی کی بات کرتے ہیں ہم خطے میں تجارت کو فروغ دے سکتے ہیں مگر اس میں رکاوٹ بھارت ہے ۔وزیر خارجہ نے کہا کہ نئی امریکی انتظامیہ ہمیشہ انسانی حقوق کو مدنظر رکھتی ہے اس سے امید ہے کہ وہ زمینی حقائق کو نظر انداز کرنا بند کرے گی ۔ شاہ محمود نے کہا کہ ہم آپ کے بھارت سے سفارتی تعلقات کا احترام کرتے ہیں مگر جموں و کشمیر گذشتہ 18 ماہ سے محاصرے میں ہے کیا بھارت اس محاصرے اور ذرائع ابلاغ پر ساری عمر قدغن لگا سکتا ہے ۔ میں یورپی یونین سے بھی اس معاملے میں کردار ادا کرنے کی توقع کرتا ہوں ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے کہا کہ پاکستان نے بارہا کشمیر میں امن کیلئے آواز اٹھائی وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ اجلاس میں بھرپور طریقے سے مسئلہ کشمیر اجاگر کیا،عالمی رہنماﺅں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی غیر قانونی لاک ڈان کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پانچ اگست 2019کے بعد سلامتی کونسل میں تین بار مسئلہ کشمیر زیر بحث آیا۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ کشمیریوں کی سیاسی ،سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے۔ ۔صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ثقافتی جارحیت کا آغاز ہو چکا ہے بھارت مقبوضہ کشمیر میں مندر تعمیر کر رہا ہے کشمیریوں کی ثقافت اور لباس کا مذاق اڑایا جا رہا ہے آپکو آزاد کشمیر کے تاریخی ورثے کو دیکھنے کی دعوت دیتا ہوں کہ آئیں اور وسیع تاریخی ورثے کو دیکھیں۔انہوں نے کہاکہ کشمیر میں اسلام تلوار کے زور پر نہیں بلکہ صوفیا و بزرگان نے پھیلایا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *