پی ڈی ایم ڈیموکریٹک موومنٹ نہیں چوری بچاو¿ موومنٹ ہے، وزیراعظم سینیٹ الیکشن میں پیسہ چلتا ہے جو پارٹی سربراہ تک جاتا ہے، عمران خان
ZANJANI NEWS

اسلام آباد(نیوزڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم ڈیموکریٹک موومنٹ نہیں چوری بچاو¿ موومنٹ ہے۔وزیراعظم عمران خان نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ سینیٹ الیکشن میں پیسہ چلتا ہے، بہت سے ارکان صوبائی اسمبلی اپنے ووٹ بیچتے ہیں اور یہ پیسہ اوپر پارٹی سربراہ تک جاتا ہے، بلوچستان میں ووٹ کی قیمت 50 سے 70 کروڑ ہوگئی ہے، ارکان اسمبلی ضمیر کی خرید و فروخت میں ملوث ہیں، انکوائری کمیٹی بنادی جسے ایف آئی اے سمیت تمام اداروں کی مدد حاصل ہوگی اور الیکشن کمیشن کو نتائج سے آگاہ کرے گی۔عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ ایشو نہیں کہ ویڈیو پہلے تھی یا اب آئی ہے، اگر میرے پاس ویڈیو پہلے ہوتی تو ہارس ٹریڈنگ پر پارٹی سے نکالے گئے ارکان کی جانب سے میرے خلاف کیسز میں عدالت میں پیش کردیتا، 2018 میں ہمارے 20 ارکان بکے جس پر ہماری انکوائری کمیٹی بنی، وہ کہیں سے ویڈیو لائی لیکن کہا کہ ہم آپ کو یہ دے نہیں سکتے صرف دکھاسکتے ہیں، جس پر ہم نے ہارس ٹریڈنگ میں ملوث اپنے ارکان اسمبلی کو پارٹی سے نکالا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سیکرٹ بیلٹ میں تو ہمیشہ حکومت کا فائدہ ہوتا ہے، اپوزیشن کا منصوبہ ہے کہ پیسہ چلاکر کسی نہ کسی طرح حکومت پر دباو¿ ڈالیں اور سینیٹ میں پی ٹی آئی کو اکثریت میں آنے سے روکیں تاکہ اپنے چوری کے کیسز میں این آر او مل جائے، ہم انہیں کھلا چھوڑ رہے ہیں یہ جو چاہے کریں۔سرکاری ملازمین کے احتجاج سے متعلق سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ پی ڈی ایم چوروں کا ٹولہ ہے، یہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نہیں بلکہ چوری بچاو¿ موومنٹ ہے، یہ حکومت کو غیر مستحکم کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں فحاشی پھیل رہی ہے، خواتین سے اجتماعی زیادتیوں اور بچوں سے زیادتی کا مسئلہ بڑھ رہا ہے، اس کی روک تھام میں علما کا کردار اہم ہوتا ہے۔دریں اثناءوزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کو سینیٹ کے ٹکٹ دینے کی روایت ختم کریں گے۔میڈیا کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت تحریک انصاف کے پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ہوا جس میں پارلیمانی بورڈ کی جانب سے سینیٹ ٹکٹوں سے متعلق سفارشات وزیراعظم کوپیش کی گئیں۔اجلاس میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سرمایہ داروں اورجاگیرداروں کوٹکٹ دینےکی روایت ختم کریں گے۔ایسے لوگوں کو سینیٹ کا ٹکٹ دیں گے جو عوامی فلاح اور بہتر قانون سازی کے لیے کام کریں۔ ذرائع کے مطابق سفارشات میں شبلی فراز کو ایک مرتبہ پھر سینیٹر بنانے کی سفارش شامل ہے۔ اسی طرح ٹیکنوکریٹس کے لیے حفیظ شیخ کا نام شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اتحادی جماعتوں میں سے کامل علی آغا کا نام بھی شارٹ لسٹ کرلیا گیا ہے اور خواتین میں ڈاکٹر ثانیہ نشتر اور ڈاکٹر زرقا کو سینیٹ کا ٹکٹ دیے جانے کا امکان ہے۔واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سینیٹ انتخابات کا شیڈیول جاری کردیا ہے جس کے تحت امیدوار 12 اور 13 فروری تک کاغذات نامزدگی جمع کرا سکیں گے جب کہ چاروں صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی میں سینیٹ انتخابات کے لیے 3 مارچ کو پولنگ ہوگی، پولنگ کا عمل 3 مارچ کو صبح 9 سے لے کر شام 5 تک جاری رہے گا۔واضح رہے کہ 11مارچ کو 52 سنیٹرز اپنی مدت پوری کرکے ریٹائر ہو جائیں گے تاہم سینیٹ کی 48 نشستوں پر انتخابات ہوں گے، اس طرح ایوان بالا کے ارکان کی تعداد 100 ہوجا ئے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *